
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پاے کیوں
مرزا غالب —
ایک انسان کی زندگی سوالات سے بھری ہوی ہوتی ہے۔ سب کی نہیں صحیح تو مگر کئیں افراد کی۔ وہی کشمکش جسے فرانسیسی مورتکار آگوست روڈن نے اپنی مجسمہ سازی ” جہنم کے دروازے“ میں ” متفکر انسان“ کے ذریعے ایک مشہور ہیت دی۔
اس کشمکش کے سوالات اکثر عجیب ہوتے ہیں۔ کسی پہلو سے بہت سنجیدہ، کسی اور پہلو سے بالکل بے معنی۔ تخلیق کے وجود سے متعلق۔ وجود کی تخلیق سے مخاطب۔
میں کیوں ہوں؟ میں کیا ہوں؟
جہاں میں ہوں یا میں ہی سارا جہاں ہوں؟
یہ ارض و سما؟ یہ ہزار ارب ارب تارے؟
اور دور فلک کےسبھی رنگین نظارے؟
Like, WTH?
!جو ہبل دور بین سے دیکھیں تو دکھتا ہے ماضی
کہاں کی فیاضی؟ — “Bugs on a rock in a void”
یہ خیال ناقابل برداشت ہے کہ کہیں ہم کائنات کے ان گنت حوادث میں ایک خفیف حادثہ تو نہیں۔
یا شاید ایک عظیم امتحان گاہ میں ہیں۔
اگر ہیں تو اکثر اوقات جوجھ رہے ہیں۔ پرچہ بہت مشکل ہے۔ لا انتہائی۔ سوالات فارسی میں ہیں اور میں ان پڑھ ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ امتحان گاہ میں لوٹ مار ہو رہی ہے۔ استاد کہیں نظر سے دور مصروف ہے۔
اور پاس ہونے کے شرائط مختلف طلباء کے نزدیک مختلف ہیں۔
زندگی میں زندگی کے اہم سوالات بے حد مختصر ہیں۔ وہ سوالات بس حروف استفہام کا مجموعہ ہیں۔
کیا؟
کیوں؟
کیسے؟
کون؟
کہاں؟
کب؟
کب تک؟
اور ان سوالات کے جوابات کا حصول شاید ناممکن ہے۔ مگر امید ہے کہ ان کے حصول کی جستجو غیر مفید نہیں۔
ان لوگوں کا یقین کرو جو حق کی تلاش میں ہیں، ان کا نہیں جنہے حق مل گیا
آندرے ژید —
(فوٹو: آگوست روڈن کا ” جہنم کے دروازے“ ، کنسٹ ہاوس زیورخ)
کسی کو اپنے اعمال کا حساب کیا دیتے’
‘سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
– منیر نیازی
LikeLike