شکوہ (اشعار : ف.و.)
میرے دوست نے آج پھر کی ہے حمایت کسی کی
اب ہم پر بھی فرض ہوئی ہے عداوت کسی کی
میرے ہم نفس تیرا یوں منہ پھیر لینا
کس دل سے برداشت کی ہے جسارت کسی کی
اے قیام جاناں محض تیری خاطر ورنہ
دل پہ یوں تو دشوار تھی عمارت کسی کی
شیخ جی بہت دیر کردی یہ کہنے میں
عشق سے قبل بھی درکار تھی اجازت کسی کی
رفیق تم نے تو میرا ہاتھ تھاما ہوتا
خیر ہم نے کب سننی تھی حکایت کسی کی
ابھی چار دن نہیں ہوے ابلیس کو پوچھے
‘محض’ تم جاؤ گے کرنے ہدایت کسی کی؟
**
**
جواب شکوہ (اشعار :ع.و.)
تمہارے رفیق ہیں اور ہم سے رفاقت ہی نہیں
یارو ہم مصروف ہیں، وقت عداوت ہی نہیں
ہم ہم نفس، ہم ہم نوا، ہم ہم سفر
دور جانے کی جسارت پر پہل کی عادت ہی نہیں
عشق ظالم نے، شیخ عاقل کو، اور کسی دل کو
شاعر بھی بنایا، مجنون حکایت ہی نہیں
دوستی نام حمایت کا، ہدایت کا، حفاظت کا
اک آگ کا سمندر جو محض عشق و محبت ہی نہیں